کمیٹی میں انجینئر محمد اسماعیل، غلام محمد، رحمت خالق، ایوب وزیری اور نواز خان ناجی شامل، حکومت گلگت بلتستان کے بنیادی انسانی اور عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے، وزیراعلی کی نااہلیوں کی تسلسل کی وجہ سے ترقیاتی عمل مکمل طور پر جمود کا شکار ہے،اعلامیہ
حکومت انتظامی آفیسران کی پسند نا پسند کی بنیاد اور انتظامی بنیاد پر پوسٹنگ ٹرانسفری کرکے انتظامی آفیسران میں بددلی پیدا کی گئی، اپوزیشن نے صوبائی حکومت کو ’ون مین شو‘ قرار دیا
گلگت(پ۔ر)متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان کا ایک اہم اجلاس مقامی ہوٹل میں منعقد ہوا۔جس میں گلگت بلتستان کی سیاسی صورتحال,امن و امان,تعمیروترقی اور تمام بنیادی عوامی مسائل پر تفصیلی غورو خوص کیا گیا,اجلاس میں تمام تمام متحدہ سیاسی جماعتوں نے گلگت بلتستان کے عوام کے مسائل کے حل کیلئے مل کر چلنے پر اتفاق کیا اور گلگت بلتستان کے عوام کے
تمام بنیادی مسائل کی نشاندہی اور حل کیلئے روڈ میپ اور متفقہ ایجنڈا ترتیب دینے کیلئے متحدہ اپوزیشن کی 5 رکنی پارلیمانی کمیٹی کا قیام عمل میں لایا گیا۔جس میں انجینئر محمد اسماعیل پیپلز پارٹی,غلام محمد مسلم لیگ (ن),رحمت خالق جمیعت علماء اسلام,محمد ایوب ویزی اسلامی تحریک,نواز خان ناجی بلاورستان نیشنل فرنٹ کمیٹی کے ممبر ہونگے۔اجلاس کے بعد تمام اپوزیشن جماعتوں نے متفقہ اعلامیہ تشکیل دیا جس کے نکات درجہ زیل ہیں۔اعلامیہ کے مطابق گلگت بلتستان کے مخصوص حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے کثیر الجہتی مسلکی علاقائی ہم آہنگی پر مبنی ماحول کے قیام,قومی اور علاقائی بڑے مسائل پر اتفاق رائے کیلئے مشترکہ جدوجہد پر اتفاق کیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق موجودہ مسلط کردہ حکومت گلگت بلتستان کے بنیادی انسانی اور عوامی مسائل کے حل میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ھے۔موجودہ وزیراعلی کی نااہلیوں کی تسلسل کی وجہ سے ترقیاتی عمل کو مکمل طور پر جمود کا شکار ہے۔ترقیاتی بجٹ کی غیر منصفانہ تقسیم,اسمبلی سے پاس کردہ ترقیاتی بجٹ کو غیرقانونی طور پر ردوبدل کرکے اربوں روپے کے غیرقانونی سیکیموں کو شامل کیا گیا اور لوکل گورنمنٹ کے اداروں کو ترقیاتی بجٹ سے محروم کرکے اس اہم بنیادی ترقی کے اداروں کو عضو معطل بنادیا گیا ھے۔جبکہ گلگت بلتستان کے آئینی اصلاحاتی معاملے پر روایتی بدنیتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس اہم عوامی اصلاحات پر رکاوٹیں کھڑی کی گئی اور گلگت بلتستان کے زمینوں کے حوالے سے خاطر خواہ اقدامات نہ کرنے کی وجہ سے گلگت بلتستان کے عوام کے عوام کا جانی اور مالی نقصان پر شدید تحفظات کا اظہار کردیا گیا۔اعلامیہ کے مطابق موجودہ حکومت انتظامی آفیسران کی پسند نا پسند کی بنیاد اور انتظامی بنیاد پر پوسٹنگ ٹرانسفری کرکے انتظامی آفیسران میں بددلی پیدا کی گئی اس عمل کی مزمت کی گئی۔اجلاس میں میں ریاستی اداروں کے ساتھ ٹکراؤ,انتشار اور عدم برداشت و تقسیم کی سیاست کو پروان چڑھاکر ملک کو کمزور کرنے کی روش کی شدید مزمت کی گئی۔اور اس عزم کا اعادہ کیا گیا کہ گلگت بلتستان میں عمران نیازی کی طرز سیاست کے اس مکروہ عمل کو گلگت بلتستان میں داخل ہونے نہیں دیا جائے گا۔اجلاس میں متحدہ اپوزیشن نے موجودہ مسلط شدہ نااہل حکومت سے فوری چھٹکارہ حاصل کرنے کیلئے آئینی و قانونی عوامل کو بروئے کار لاکر گلگت بلتستان کے عوام کو بھی اس نااہل ٹولے سے نجات دلانے کا اعادہ کیا گیا۔متحدہ اپوزیشن گلگت بلتستان کی جانب سے وفاقی حکومت کے خلاف کامیاب عدم اعتماد کی تحریک کے عمل کو سراہا گیا اور قومی قیادت کو اس عمل پر خراج تحسین کیا گیا۔متحدہ اپوزیشن نے موجودہ مسلط شدہ صوبائی حکومت (ون مین شو) حکومت کی کارکردگی پر عدم اعتماد کا اظہار کیا گیا۔
گلگت، اپوزیشن نے مشترکہ حکمت عملی وضع کرنے کیلئے پانچ رکنی پارلیمانی کمیٹی تشکیل دے دی

Leave a comment